• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

روپے قرض کی ڈالر میں واپسی کی شرط لگانا

استفتاء

فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے دوسرے کو ایک لاکھ پاکستانی روپے بطور قرض کہ دیے اور کہا کہ 6 مہینے کے بعد میں اس کی وصولی ڈالر کے حساب سے کروں گا مثلا آج ایک لاکھ کے ایک ہزار ڈالر آتے ہیں تو میں 6 مہینے کے بعد ایک ہزار ڈالر وصول کروں گا کیا ایسا کرنا درست ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں قرض کی واپسی ڈالروں میں کرنے کی شرط لگانا درست نہیں ہے ۔واپسی پاکستانی روپوں میں ہی کرنی پڑے گی۔

شامی مع الدر میں ہے:

القرض لا یتعلق بالجائز من الشروط فالفاسد ما لا یبطله و لکنه یلغو شرط رد شیء آخر. قال الشامي: الظاهر أن أصل العبارۃ کشرط شیء آخر. (412/7)

امدادالفتاوی (165/3)  میں ہے:

’’الاقراض تقضی بامثالہا کے قاعدہ سے جس قسم کا روپیہ قرض لیا تھا اس قسم کا واجب الادا ہو گا ،تفاوت فی القیمت کا اعتبار نہ ہو گا اس تفاوت کی بنیاد پر جس نقصان کی شرط عقد میں ٹھرانا یا بلا شرط لینا جب کہ متعارف ہو ربوا اور حرام ہے۔‘‘

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقط و اللہ تعالیٰ اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved