• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

صاحب عذر جو ایک وضو سے نماز پڑھ سکتا ہو اس کے لیے دوران طواف وضو کا حکم

استفتاء

میری عمر تقریباً ستر سال ہے، میں حج کے لیے جا رہا ہوں مجھے گیس کا مسئلہ ہے، تقریباً ہر سات آٹھ منٹ کے بعد میرا وضو ٹوٹ جاتا ہے، یعنی میں نماز تو وضو کر کے پڑھ سکتا ہوں مگر طواف میں میرے لیے دشواری ہو گی کیا مجھے طواف میں بار بار وضو کرنا ہو گا، یا ایک ہی وضو سے طواف کرنے کی گنجائش ہے؟ پھر یہ گنجائش کون کون سے طوافوں میں حاصل ہو گی؟

1۔ عمرے کا طواف (حج تمتع کے لیے)

2۔ نفلی عمرے کا طواف

3۔ عام نفلی  طواف

4۔ طوافِ زیارت

5۔ طوافِ وداع

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ آپ ایک ہی وضو سے فرض نماز پڑھ سکتے ہیں اس لیے طواف کے حق میں آپ معذور شمار نہ ہوں گے اورجب بھی آپ کا وضو ٹوٹے گا دوبارہ وضو کرنا ہو گا۔

آپ اپنی نوعیت کے لحاظ سے اول تو کوشش کریں کہ طواف کے لیے وضو دوبارہ کریں چاہے زمزم کے پانی سے وضو کرنا پڑے، اور چاہے پانی کی بوتل ساتھ رکھ لیں اور اعضاء پر اس طرح بہا لیں کہ پانی کے چند قطرے ہی ٹپک جائیں اور فوراً تولیے سے خشک کر لیں۔

اگر یہ صورتیں ممکن نہ ہوں اور آپ وضو نہ کر سکتے ہوں تو پھر بلا وضو طواف کر سکتے ہیں مگر اس کے لیے درج ذیل تفصیل ملحوظ رکھنا ہو گی:

طواف زیارت اور عمرے کے طواف میں اگر اکثر حصہ (یعنی چار چکر) بلا وضو ہوئے تو اس کے بدلے میں ایک دم (بکری) دینا ہو گی۔ اور اگر تھوڑا حصہ (یعنی تین چکر یا اس سے بھی کم) بلا وضو ہوا تو ہر چکر کے بدلے پونے دو کلو گندم صدقہ دینا ضروری ہو گا۔

جبکہ طواف وداع اور عام طواف میں چاہے اکثر حصہ بلا وضو ہو یا کم حصہ بہر دو صورت ہر چکر کے بدلے میں پونے دو گندم صدقہ دینا ہو گی۔

فتاویٰ عالمگیریہ: (1/40)

شرط ثبوت العذر ابتداء أن يستوعب استمراره وقت الصلاة كاملاً وهو الأظهر.

غنية الناسك: (272)

لو طاف للزيارة كله أو اكثره محدثاً فعليه شاة …. فإن أعاده سقط عنه الدم.

رد المحتار: (3/516)

لكن في البحر عن الظهيرية لو طاف أقله محدثاً وجب عليه لكل شوط نصف صاع من حنطة.

معلم الحجاج: (244)

’’اگر پورا یا اکثر طواف زیارت بے وضو کیا تو دم دے اور اگر طواف قدوم یا طواف وداع یا طواف نفل یا نصف سے کم طوافِ زیارت بلا وضو کیا تو ہر پھیرے کے لیے آدھا صاع صدقہ دے اور اگر تمام پھیروں کا صدقہ دم کے برابر ہو جائے تو کچھ تھوڑا سا کم کر دے اور ان تمام صورتو میں وضو کر کے طواف کا اعادہ کر لیا تو کفارہ اور دم ساقط ہو جائے گا۔‘‘

عمدۃ الفقہ: (187)

’’کسی ضروری حاجت کے لیے طواف کو درمیان میں چھوڑ کر چلے جانا یعنی کوئی قلیل کام کرنا مثلاً پانی پینا وغیرہ یا کوئی تھوڑا کام جس کی ضرورت ہے کرنا (مباح ہے)‘‘

طواف میں بہت زیادہ وقفہ کرنا مکروہ ہے لیکن طواف باطل نہ ہو گا۔

غنیۃ الناسک: (127)

(من مکروهات الطواف) وتفريق الطواف تفريقاً كثيراً لا يبطل ولا مفسد للطواف.

مناسك ملا علي قاري: (165)

(وتفريق الطواف) أي الفصل بين أشواطه تفريقاً كثيراً فاحشاً سواء مرة أو مرات لترك الموالاة لكن قيد الكثرة بظاهره يقيد نفي القلة على ما قدمناه من جواز الشرب. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved