• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : صبح آ ٹھ تا عشاء

عذر کی وجہ سے حائضہ کے لیے طواف سے متعلق غیر کے مسلک کو اختیار کرنے کا حکم

استفتاء

1۔ ایک عورت عمرہ کرنے  گئی۔ عمرہ کر کے مدینہ چلی گئی، چند دن بعد جب مدینہ سے مکہ واپسی ہوئی تو عورت ایام حیض میں ہے۔ دو دن بعد واپسی کی تاریخ ہے، جبکہ ابھی عادت کے مطابق کچھ دن حیض کے باقی ہیں۔ اب یہ عورت احرام باندھ کر مکہ آئے یا بغیر احرام کے؟ اگر احرام باندھ کر آتی ہے تو عمرہ کرے یا بغیر عمرہ کے واپس پاکستان آ جائے؟

2۔ ایک عورت مدینہ سے چلی تو پاک تھی، واپسی پر اس نے عمرہ کا احرام باندھ لیا، جب مکہ پہنچی تو حیض شروع ہو گیا۔ ابھی پاک نہ ہوئی تھی کہ واپسی کی تاریخ آ گئی۔ اب کیا کرے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

فقہ حنفی کی رو سے تو اس عورت کے لیے یہی حکم ہے کہ عمرے کا احرام باندھ کر مکہ مکرمہ آئے اور پھر اپنے پاک ہونے کا انتظار کرے اور پاک ہو کر عمرہ کرے۔ لیکن اگر واپسی کی تاریخ تک پاک نہ ہو سکے اور تاریخ کی تبدیلی بھی ممکن نہ ہو تو احرام توڑ دے، یعنی عمرہ توڑنے کی نیت کر کے ممنوعات احرام میں سے کوئی کام کر لے مثلاً ایک پورے کے بقدر اپنے سر کے بال کٹوا لے اور احرام توڑنے کا دم دے۔ پھر آئندہ اس عمرہ کی قضا بھی کرے۔ کیونکہ یہ عورت اگر ایسی حالت میں احرام نہ توڑے تو اسے یا تو ایک لمبی مدت تک حالت احرام میں رہنا پڑے گا جو کہ ایک مشکل کام ہے،  یا اسی حالت میں عمرہ کرنا پڑے گا جو کہ ایک نا جائز کام ہے۔ اور اگر اس عورت کی مالی حالت ایسی ہو کہ اس کے لیے دوبارہ اس عمرے کی قضا کرنا  بھی ممکن نہ ہوتو ایسی حالت میں اگر وہ احرام نہ توڑے بلکہ اسی حال میں عمرہ کر لے تو سخت مجبوری کی وجہ سے ایسا کرنے سے اس کا عمرہ ہو جائے گا۔ تاہم حالت حیض میں عمرہ کرنے کی وجہ سے ایک بکری بطور دم کے حرم میں دینا ہو گی اور ساتھ میں توبہ و استغفار بھی کرنا ہو گا۔

البتہ فقہ شافعی  کے مطابق جس آفاقی شخص کا مکہ مکرمہ آتے ہوئے حج یا عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو وہ شخص بغیر احرام کے بھی مکہ مکرمہ آ سکتا ہے۔ اس قول کے مطابق اگر یہ عورت عمرے کا ارادہ ہی نہ کرے تو اس کے لیے بغیر احرام کے مکہ مکرمہ آنے کی گنجائش ہے، اس صورت میں اسے نہ عمرہ کرنا پڑے گا اور نہ ہی کسی قسم کا دم دینا پڑے گا۔ لہذا اگر یہ عورت فقہ شافعی کے مسئلے پر عمل کرتے ہوئے مکہ مکرمہ آنے میں عمرہ کی نیت نہ کرے بلکہ یہ نیت کرے کہ گروپ اور قانونی مجبوریوں کی وجہ سے میں مکہ مکرمہ جارہی ہوں تو سوال میں ذکر کردہ صورت حال میں اس کے لیے اس کی گنجائش ہے۔ کیونکہ موجودہ زمانے میں عمرے کا احرام باندھ کر پھر احرام کو ختم کرنا اور بعد میں عمرے کی قضا کرنا  یا حالت حیض میں عمرہ کرنا، ان دونوں صورتوں سے اھون ہے کہ ایک اجتہادی مسئلے میں دوسرے امام کے مسلک پر عمل کر لیا جائے تاکہ ان دونوں صورتوں پر عمل کی نوبت ہی نہ آئے۔

2۔ یہ عورت اپنے پاک ہونے کا انتظار کرے اور پاک ہو کر عمرہ ادا کرے۔ لیکن اگر واپسی کی تاریخ تک پاک نہ ہو سکے اور تاریخ کی تبدیلی بھی ممکن نہ ہو تو احرام کو توڑ دے، اور احرام توڑنے کا دم دے، اور آئندہ اس عمرہ کی قضا کرے۔ اور اگر اس عورت کی مالی حالت ایسی ہو کہ اس کے لیے دوبارہ اس عمرے کی قضا کرنا بھی ممکن نہ تو ایسی حالت میں اگر وہ احرام نہ توڑے بلکہ اسی حالت میں عمرہ کر لے تو اس کا عمرہ ہو جائے گا لیکن حالت حیض میں عمرہ کرنے کی وجہ سے ایک بکری بطور دم کے حرم میں دینا ہو گی، اور ساتھ میں توبہ و استغفار بھی کرنا ہو گا۔

في البدائع (2/ 374):

و لو جاوز الميقات يريد دخول مكة أو الحرم من غير إحرام يلزمه إما حجة و إما عمرة.

و في غنية الناسك (62):

و من دخل مكة أو الحرم بلا إحرام فعليه أحد النسككين، فلو أحرم به بعد تحول السنة أو قبله من مكة أو خارجها داخل المواقيت أجزأه و عليه دم المجاوزة، فإن عاد إلى ميقات، و لبى عنده سقط عنه دم المجاوزة أيضاً.

و في إعلاء السنن (10/ 326):

عن عائشة رضي الله عنها: أنها قدمت متمتعة وهي حائض، فأمره النبي صلى الله عليه و سلم، فرفضت عمرتها، فاستأنفت الحج حتى إذا فرغت من حجها أمرها أن تصدر إلى التنعيم مع أخيها عبد الرحمن. (رواه الإمام أبو حنيفة، و هذا سند صحيح).

و فيه أيضاً (10/ 328)

أما الكتاب فمعناه أتموا الحج و العمرة لله ما قدرتم على إتمامها و المتمتعة إذا حاضت و ولم تطهر قبل الوقوف بعرفة ليست بقادرة على إتمام العمرة. و الذي ذهبنا إليه من كونها متمتعة قد منعت العمرة فرفضها و استأنفت الإهلال للحج قوي رواية و دراية.

أحكام القرآن للجصاص (384-383):

و المعنى في استواء حكم المعذور وغير المعذور ما لزمه من الإحرام بالدخول و هو موجود في المحصر، فوجب أن لا يسقط عنه القضاء و يدل عليه أيضاً قصة عائشة حين حاضت و هي مع النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع و كانت محرمة بعمرة، فقال لها النبي صلى الله عليه و سلم ”انقضي رأسك و امتشطي و أهلي بالحج و دعي العمرة“ ثم لما فرغت من الحج أمر عبد الرحمن بن ابي بكر فأعمرها من التنعيم و قال ”هذه مكان عمرتك“ فأمرها بقضاء ما رفضته من العمرة للعذر فدل ذلك على أن المعذور في خروجه من الإحرام لا يسقط عنه القضاء.

و في رد المحتار (3/ 665):

و ما ذكر من أن نية الرفض باطلة و أنه لا يخرج من الإحرام إلا بالأفعال محمول على ما إذا لم يكن مأمورا بالرفض …. و من المأمور بالرفض المحصر بمرض أو عدو لأنه يذبح الهدي يحل و يرتفض إحرامه.

و في غنية الناسك (231):

رفض الإحرام لا يحصل بالقول و لا بالنية بل بفعل شيء من محظورات الإحرام مع نية الرفض به إذا كان مأموراً بالرفض و الإ لا يحصل به الرفض و إن فعله بقصد الرفض.

و في الفتح (3/ 104):

و كل من رفض نسكاً فعليه دم لما روى أبو حنيفة عن عبد الملك بن عمير عن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه و سلم أمر لرفضها العمرة بدم.

و في مناسك ملا علي القاري (296):

و كل من لزمه رفض العمرة، فعليه دم و قضاء عمرة.

و في رد المحتار (3/ 616):

نقل بعض المحشين عن منسك ابن أمير حاج: لو هم الركب على القفول و لم تطهر فاستفتت هل تطوف أم لا؟ قالوا يقال لها لا يحل لك دخول المسجد و إن دخلت و طفت أثمت و صح طوافك و عليك ذبح بدنة و هذه مسألة كثيرة الوقوع يتحير فيها النساء.

و في الدر مع رد المحتار (3/ 663):

و في الفتح: لو طاف للعمرة جنباً أو محدثاً فعليه دم. و في الشامية تحت قوله (و في الفتح) عزاه إلى المحيط و نقله في الشرنبلالية، و مثله في اللباب حيث قال: و لو طاف للعمرة كله أو أكثره أو أقله و لو شوطاً جنباً أو حائضاً أو نفساء أو محدثاً فعليه شاة، لا فرق فيه بين الكثير و القليل و الجنب و المحدث لأنه لا مدخل في طواف العمرة للبدنة و لا للصدقة بخلاف طواف الزيارة، و كذا لو ترك منه أي من طواف العمرة أقله و لو شوطاً فعليه دم و إن أعاده سقط عنه الدم.

مسنون حج و عمرہ (118) (مصنفہ: ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب) میں ہے:

’’اگر قیام کے دن تھوڑے ہیں اور واپسی میں تاخیر نہیں کی جا سکتی تو اگر عورت حیض کی حالت ہی میں عمرہ کرے گی تو اس کا عمرہ ادا ہو جائے گا اور اس کو توبہ و استغفار بھی کرنا چاہیے اور دم میں ایک بکری ذبح کرنا واجب ہے۔‘‘

و في مناسك منلا علي القاري (393):

(و الثالث ذبحه فالحرم) بالاتفاق، سواء وجب شكراً أو جبراً.

و في المجموع شرح المهذب (8/ 73):

فالحاصل أن المذهب أنه لا يجب الإحرام لدخول مكة على من دخل لتجارة و نحوها مما لا يتكرر و لا على من يدخل لمتكرر كالحطاب و لا على البريد و نحوه.

و في التاتارخانية (2/ 357):

و عند الشافعي إنما يلزمه الإحرام إذا أراد دخول مكة للحج أو للعمرة أما إذا كان لأمر آخر فلا يلزمه..………….. فقط و الله تعالى أعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved